ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / سی اے اے مخالف مظاہرین پر نوٹس کے مطابق کاروائی نہ کرنے سپریم کورٹ نے اُترپردیش حکومت کو دی ہدایت

سی اے اے مخالف مظاہرین پر نوٹس کے مطابق کاروائی نہ کرنے سپریم کورٹ نے اُترپردیش حکومت کو دی ہدایت

Sat, 10 Jul 2021 13:49:22    S.O. News Service

نئی دہلی، 10؍جولائی (ایس او نیوز؍ایجنسی) شہریت ترمیمی ایکٹ اور این آر سی کی مخالفت میں اُترپردیش میں  مظاہرہ کرنے والوں کو  بڑی راحت دیتے ہوئے  سپریم کورٹ نے یوگی سرکار کو ہدایت دی ہے کہ  وہ مظاہرین کی املاک کی   قرقی کے لئے جاری کی گئی نوٹس پر کوئی   کاروائی نہ کرے، تاہم  عدالت عظمیٰ نے حکومت کو یہ اختیار بھی  دیا کہ  نئے وضع کردہ قوانین کے تحت وہ کاروائی کرسکتی ہے۔

یاد رہے کہ  اُترپردیش میں مظاہرین کے خلاف پولس نے انتہائی جارحانہ کاروائی کی تھی جس کی وجہ سے  کئی مقامات پر تشدد پھوٹ پڑا تھا، اس دوران  سرکاری املاک کو پہنچنے والے نقصان کے لئے  مظاہرین کو ذمہ دار ٹہراتے ہوئے ان سے ہرجانہ ادا کرنے کی مانگ کی گئی تھی اور ہرجانہ ادا نہ کرنے  پر متعدد مظاہرین کو ان کی املاک   قرق کرنے کے نوٹس  جاری کئے  گئے  ہیں۔

 جسٹس ڈی وائی چندرچوڑا اور جسٹس ایم آر شاہ کی بینچ نے کہا کہ پہلے جاری کئے گئے نوٹسوں پر کاروائی نہ کی جائے، اب جو بھی کاروائی ہو وہ نئے قانون اور نئے  ضوابط  کے مطابق ہونی چاہئے۔

اُترپردیش حکومت  کی جانب سے پیش سنئیر ایڈیشنل سالیسٹر جنرل گریما پرساد نے کہا ٹریبونلس کی تشکیل کی گئی ہے اور سبھی ضروری ضابطے بنائے گئے ہیں۔ جس کے بعد عدالت نے معاملے کی سماعت دو ہفتوں کے لئے ملتوی کردی اور یوپی سرکار سے ٹریبونل کی تفصیلات طلب کیں۔

اترپردیش میں سی اے اے مخالف مظاہرین سے توڑ پھوڑ کے نقصانات کی وصولی کو غیر قانونی قرار دینے والی درخواست پر سماعت سپریم کورٹ نے 23 جولائی تک کیلئے ملتوی کردی ہے۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ انتظامیہ نے لوگوں کو بغیر کسی قانونی بنیاد کے نوٹس بھیجے تھے۔ اس کے جواب میں یوپی حکومت نے  کہا کہ اس سلسلے میں قانون بنایا گیا ہے۔ اس پر عدالت نے اشارہ کیا کہ اگلی سماعت میں معاملہ بند کردیا جائے گا۔

گذشتہ سال جنوری میں پرویز عارف  نامی ایک درخواست گزار نے سپریم کورٹ میں دعوی کیا تھا کہ یوپی میں اقلیتوں کو ہراساں کرنے کے لئے وصولی کے نوٹس بھیجے جارہے ہیں۔ درخواست گزار نے کہا کہ سپریم کورٹ کے پرانے فیصلے کے مطابق ایسے معاملات میں وصولی کے جائزے اور معاوضے کا حکم ہائی کورٹ یا کسی عدالتی ادارہ سے آنا چاہئے تھا لیکن یوپی میں ضلعی انتظامیہ نے لوگوں کو نوٹس بھیجے ہیں۔ یہ نوٹس  غیر قانونی بھی ہیں کیونکہ ریاست میں اس کولے کر کوئی قانون موجود نہیں ہے۔ عدالت کی توجہ  اس جانب بھی مبذول کرائی گئی تھی کہ یہ نوٹس من مانے طریقے سے بھیجے گئے ہیں ایک ایسے شخص کے نام  بھی نوٹس بھیجا گیا ہے جو چھ سال قبل 94 سال کی عمر میں انتقال کرچکا ہے ان کے علاوہ کئی دیگر افراد جنہیں نوٹس جاری کئے گئے ہیں، کافی عمر رسیدہ ہیں جن میں سے دو کی عمریں 90 سال سے بھی زائد ہیں۔

گذشتہ سال ہونے والی سماعت میں عدالت عظمی نے عوامی املاک میں توڑ پھوڑ کرنے والوں سے باز آوری کا مطالبہ کیا تھا لیکن ریاستی حکومت سے لوگوں کو بھجوائے جانے والے نوٹس کے پیچھے قانونی بنیاد پرموقف رکھنے کو کہا تھا۔ آج تقریباڈیڑھ سال کے بعد یہ معاملہ لگا۔ درخواست گزار کی جانب سے جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس ایم آر شاہ کی بنچ کو بتایا گیا کہ ان کے اہم وکیل نیلوفر خان ذاتی وجوہات کی بناء پر پیش ہونے کی پوزیشن میں نہیں ہیں،اس لئے سماعت ملتوی کردی جانی چاہئے۔اس پر ججوں نے جاننا چاہا کہ یوپی حکومت کی طرف سے کون پیش ہوا ہے۔ ریاست کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل گریما پرساد نے بنچ کو بتایا کہ اس معاملے پر ضروری قانون سازی کی گئی ہے۔ اس کی بنیاد پر کلیمز ٹریبونلز بھی تشکیل دئے گئے ہیں۔ بنچ نے ان سے تحریری حلف نامے کی شکل میں زبانی طور پر رکھی گئی معلومات پیش کرنے کو کہا۔ 

درخواست گزار کی جانب سے درخواست کی گئی کہ سماعت کی تاریخ  ایک  ماہ   بعد رکھیں۔ اس پر ججوں نے کہا کہ اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اس نے اس کیس کی پوری فائل پڑھ لی ہے۔ یہاں تک کہ اگر وکیل نیلوفر دستیاب نہیں ہے تو بھی  اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ریاست کا حلف نامہ آنے کے بعد اگلی سماعت میں معاملہ بند ہوجائے گا۔


Share: